یہ تاثر یاسمین حمید کے دوسرے شعری مجموعے “حصارِبے در و دیوار” کی تقریب پذیرائی میں پڑھا گیا۔ یہ ایک مختصر سی تحریر ہے جو یاسمین حمید کی ساری کتاب کے بارے میں نہیں ہے۔ صرف غزل کے حصے کے بارے میں ہے۔
میں عدیم ہاشمی کی طرح شطرنج کا رسیا تو نہیں ہوں لیکن کھبی کھبی میں سوچتا ہوں کہ غزل کی بساط کا موازنہ شطرنج کی بساط سے کیا جا سکتا ہے۔ شطرنج کی ہر بساط کے مہرے بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں مگر شطرنج کی ہر بازی دوسری بازی سے مختلف ہوتی ہے اور یہ سارا کھیل صرف چوبیس گھروں اور بتیس مہروں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ پھر وہ حکایت تو آپ نے سنی ہوگی کہ ایک بادشاہ نے کسی شاطر سے خوش ہو کر کہا تھا: مانگ کیا مانگتا ہے تو جواب میں اس نے کہا کہ شطرنج کے پہلے خانے میں پیتل کا ایک سکہ رکھ دو اور پھر ہر خانے میں اس کو دوگنا کر تے چلے جاؤ۔ بادشاہ کو یہ لگا کہ شاطر نے اس سے بہت معمولی چیز مانگی ہے مگر اسے جلدہی احساس ہو گیا کہ وہ اپنی ساری سلطنت بیچ کر بھی پیتل کے یہ سکےّ پورے نہیں کر سکتا۔
کچھ ایسے ہی امکانات غزل کے اندر بھی موجود ہیں۔ کلاسیکی غزل اور جدید غزل برسوں سے لکھی جا رہی ہے مگر ہر بار کوئی نہ کوئی ایسا شاعر یا شعر سامنے آ جاتا ہے جو چونکا کر رکھ دیتا ہے۔ وہ ایسی بازی کھیلتا ہے جیسی بازی کھیلنے کے امکانات تو بہر صورت ہوتے ہیں مگر کسی نے یہ بازی کھیلی نہیں ہوتی۔ لہذا غزل اپنے امکانات میں لامحدود کہی جا سکتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کی حدود بھی متعین کی جاسکتی ہیں۔ یہ حدود محض ردیف’ قافیے اور اوزان تک محدود نہیں ہیں بلکہ غزل کی لفظیات’ موضوعات اور اکژ اوقات مابعد اطبعیات بھی مشترک ہوتی ہیں۔اب مثال کے طور پر یاسمین حمید کی موجودہ کتاب حصارِ بے درودیوار میں سبھی کچھ دوسرے شاعروں کی طرح ہے۔ اس نے کسی بھی حد یا قید تو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک بھی نیا لفظ استعمال نہیں کیا’ ایک بھی نئی ترکیب نہیں بنائی بلکہ تراکیب تو وہ بناتی ہی کم کم ہے مگر اس کے باوجود اس کی قریبی مما ثلت کسی دوسرے جدید شاعر سے تلاش نہیں کی جا سکتی۔ اس نے یہ بھی تو نہیں کیا کہ چونکا دینے والی شاعرہ بننے کے لیے تحریکِ نسواں ہی کو اچھالا ہو۔ اس نے صرف ایک کام کیا ہے کہ وہ جو کچھ محسوس کرتی تھی اور جس طرح محسوس کرتی تھی اس کو اسی طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ اس کے ہاں کسی خاص فلسفے یا رویے کو خصوصی طور پر فوقیت حاصل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غزل کے اجتماعی رویے کو بیان کرنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ غزل وہ کہانی ہے جو ہر شخص دوسرے کے کان میں کہتا ہے مگر ہر بار اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ہو جاتی ہے اور آخر تک پہنچتے پہنچتے پوری کہانی ہی بدل جاتی ہے۔ یاسمین حمید کی شاعری داستان گوئی کا وہ مقام ہے جہاں سے یہ کہانی کوئی نیا موڑ اختیار کرتی نظر آتی ہے مگر میں کیونکہ نقاد نہیں ہوں لہذا یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کے بعد یہ کہانی کیا رخ اختیار کرے گی۔ البتہ شاعری کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں آپکو یاسمین حمید کے چند اشعار ضرور سناؤں گا جو میرے خیال میں نئی غزل کے بعض ایسے امکانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی نشاندہی کم کم کی گئی ہے یا بالکل نہیں کی گئی۔ کیونکہ یہ میرا ایک ذاتی تاثر ہے اس لیے آپکو مجھ سے اختلاف کرنے کا حق ضرور پہنچتا ہے مگر یہ شاید آپ کے لیے بھی ممکن نہ ہو کہ آپ اس کتاب کا مطالعہ کر کے ایسے اشعار اپنے طورپر دریافت نہ کر پائیں جو آپ کے خیال میں نئے ہوں۔ اب آپ چند اشعار سن لیجیے
ناگہاں کوئی نہ آثا ر مٹا دے اس کے
نقش اک اور پس ِ نقش بنائے رکھنا
اسے تلاش کیا جائے دست ِ خالق میں
کمی جو نقش میں لگتی ہے نقش گر میں نہ ہو
حیرت ِ دید نے افلاک و زمین پر اک ساتھ
ڈوبنے اور ابھرنے کا تماشا دیکھا
کم سے کم جان گئے قیمتِ امید ہے کیا
عمر بھر بیٹھ کے جب ایک ہی رستہ دیکھا
ڈوبنے والے کا اندیشہ ہی
اکثر قطرہ قطرہ پانی کو گہرائی دے
جس نے پھول چنے ہیں میرے صحرا سے
میری آنکھوں کو اپنی بینائی دے
یہ چند اشعار میں نے پہلے بارہ صفحات سے چنے ہیں۔ باقی انتخاب آپ خود کیجیے۔ اور اسی حوالے سے ایک اور شعر سن لیجیے
مری ہی خو میں نہ ہو اس کی رنجشوں کا سبب
یہ فاصلہ کہیں میرے ہی بال و پر میں نہ ہو