صداقت و دیانت کی منفرد شاعری
احمد ندیم قاسمی
(دوسرے شعری مجموعے “حصارِبے در و دیوار ” کے لیے لکھا ہوا مضمون)
یاسمین حمید اپنے دور کے نمایاں غزل گو شعراء سے قطعی طورپر مختلف انداز میں سوچتی اور منفرد انداز میں اظہار کرتی ہے۔ “حصاربے درودیوار” اس کا دوسرا مجموعہئ کلام مگر اس نے اپنے پہلے ہی مجموعہ “پسِ آئینہ” سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ عام ڈگر سے ہٹی ہوئی شاعر ہے۔ یہ بات نہیں کہ وہ غیر حقیقی یا غیر زمینی موضوعات پر گفتگو کرتی ہے۔ یہ تو اپنے عصر کی سچی عکاس اور جدید طرزِ احساس کی کھری نمائندہ ہے مگر وہ جو کچھ کہتی ہے، اس ڈھب سے کہتی ہے کہ اسے کسی بھی دوسرے اہم شاعر کے مماثل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وہ خود ہی اپنی مثال ہے۔ ادب کے وہ ناقدین اور قارئین جنہیں عموماً شکایت رہتی ہے کہ جدید اردو غزل یک رنگ ہوئی جارہی ہے اور سبھی نئے غزل گو قریب قریب ایک ہی انداز کی غزل کہنے لگے ہیں، یاسمین حمید کی غزل پڑھیں گے تو اپنے نظریہ پر نظر ثانی کر نا ہوگی۔
یاسمین کے ہا ں جذبہ و فکر کا اتنا وفور ہے کہ خود اس طرح کے اعترافات کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
کئی نقطے پسِ ابلاغ ہوں گے
بہت کچھ چُھپ گیا ہے دائرے میں
_____________
میں اسے حرف میں محبوس نہیں کر سکتی
جس تخیل سے مری ذات میں ہے پھیلاؤ
یاسمین کی صرف ایک غزل کے حوالے سے اس کے منشور ِ فن کو واضح کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ہاں موسمِ خشک میں بھی خوشبو کا تصور جاری رہتا ہے۔ وہ پسِ نقشِ بھی ایک نقش بنائے رکھنے کا عزم رکھتی ہے اور زندگی کے بارے میں اس کا نقطہئ نظریہ ہے کہ اگر تیز ہوا کی وجہ سے رہ گزر پر چراغ نہ جل سکیں تو گھروں کے اندر تو چراغوں کو جلائے رکھنا چاہیے۔ یوں نفی کے مقابلے میں اثبات نے اس کے ہاں متنوع رنگوں میں اظہار پایا ہے۔
موت کا انتظار کرنا ہے
زندگی سے بھی پیار کرنا ہے
————
میں نے ملبے کو ہٹا کر دیکھا
ایک اک خواب مرا زندہ ہے
————
لکھوں کھیتوں کے جل جانے کا قصہ
تو بار آور رتوں کو ساتھ لکھوں
اور یاسمین کا یہ ناقابلِ شکست اثبات اس وقت تو واضح طور پر ایک فاتح کی شان اختیار کر لیتا ہے جب وہ کہتی ہے
کیسے پت جھڑ کے ہاتھ آئے گی
شاخِ گل جو شجر کے اندر ہے
یہ شجر کے اندر’ مستقبل میں پھوٹ نکلنے کے انتظار میں بیٹھی ہوئی شاخِ گل’ یاسمین کے فن کی نہایت بلیغ علامت ہے۔ اس اثبات و اعتماد نے اسے کار گاہِ حیات کے کسی بھی مرحلے پر مایوس نہیں ہونے دیا۔ یقینا وہ اداس بھی ہوتی ہے کہ قد م قد م پر اپنے معیاروں کی پامالی دیکھ کر اداس ہو ہو جانا ہر صاحبِ شعور انسان کا مقدر ہے مگر اداسی’ مایوسی کے ہم معنی نہیں ہے۔ یاسمین کے کلام میں اداسی کی زیریں لہر مستقلاً چلتی رہتی ہے۔
نہ جواب ہوں کسی بات کا’ نہ سوال ہوں
فقط ایک حیرتِ مستقل کی مثال ہوں
مگر یہ حیرت عارضی ثابت ہوتی ہے جب وہ کہتی ہے
مری آنکھیں گواہی دے رہی ہیں
کسی امید کے آزار میں ہوں
اس “امید کے آزار” سے مجھے غالب یاد آگئے جنہوں نے کہا تھا
پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا
افسونِ انتظار’ تمنّا کہیں جسے
غالب کا یہی ”افسونِ انتظار” یاسمین کا “امید کا آزار” ہے۔ اس امید کو یاسمین کا وہ اعتماد اور اثبات کہنا چاہیے جو اس کے فن کا جلی عنوان ہے۔
یاسمین نے اپنے پہلے مجموعہئ کلام “پسِ آئینہ” کی خود نوشت تمہید میں بتایا تھا کہ اس کی شاعری سچائی اور خلوص کا نچوڑ ہے۔ سچائی کا کوئی بھی علمبردار اپنے عصر’ اپنی قوم’ اپنی تہذیب’ اپنے ماحول سے کترا کر نکل جانے کا قائل نہیں ہوتا۔ وہ جب اپنی ذات کی گہرائیوں کی سچائیاں بیان کرتا ہے تو دوسری بے شمار سچائیوں کی علمبرداری سے دست کش نہیں ہو جاتا بلکہ اپنے آس پاس کی معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال بھی اس کی حق گوئی کا موضوع بنتی ہے۔ یاسمین بھی خلوص اور دیانت کے ساتھ اپنے ماحول کی سچی ترجمانی کرتی ہے اور کہیں کہیں واشگاف انداز میں چِلّا اٹھتی ہے
یہ بے حسِی ہے کہ ہے انتہائے خُوے الم
نگر نگر ہے لہو’ اور کوئی ملول نہیں
مگرخود اس کا موقف کتنا مبارک ہے
چننے کو راستے کے سب پتھر
اک سفر بار بار کرنا ہے
بار بار سفر کرنے کا یہ عزم دراصل امید کا وہی آزار ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ سفر کا یہ طلسم یاسمین کے ہاں متعددمقام پر مسحور کرتا ہے اور میری نظر میں یاسمین کا یہ شعر سفر کے اس استعارے کا اوجِ کمال ہے
سمندر ڈھونڈتا دریا کا پانی
زمیں پر حسن بوتا جا رہا ہے
میری ان تصریحات سے قارئین کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ سچائی اور خلوص اور دیانت کی اس شاعری میں شاید تغزل غائب ہوگیا ہے حالانکہ حق بات یہ ہے کہ یاسمین نے یہ سب سچائیاں تغزل ہی کے دلآویز لہجے میں بیان کی ہیں۔ غزل کا یہ شعر دیکھیے
کھٹکتی ہے مجھے وہ دوسروں میں
تمہاری بات جو اچھی لگی تھی
میری رائے میں اس موضوع کا کوئی شعر اردو اور فارسی غزل میں موجود نہیں ہے۔ اگر موجود ہے تو میں اپنے مطالعے کی کمی کا اعتراف کیے لیتا ہوں۔محبت کی اس طرح کی شِدّت تغزل کی جان ہوتی ہے۔ یاسمین کی غزلوں کے چند شعر سنیے
ساری سمتیں مجھے ایک سی ہو گئیں
راستہ بھولنا آج اچھا لگا
————
مجھے بے مائیگی کا دُکھ نہیں تھا
اندھیرے میں دیا جلنے سے پہلے
————
میں اپنے دل کے دروازے پہ بیٹھی سوچتی تھی
اسے باہر سے بھیڑوں یا پھر اندر لوٹ جاؤں
————
منتقل ہوتے رہیں گے ایک اک کر کے مکیں
اور مٹی کا گھروندا دیکھتا رہ جائے گا
————
جس نے پھول چنے ہیں میرے صحرا سے
میری آنکھوں کو اپنی بینائی دے
————
ہم سمندر کی تواضع کے لیے
ایستادہ ہیں کناروں کی طرح
————
یہ عقدہ تو بلندی پر کھلے گا
زمیں اوپر ہے نیچے آسماں ہے
مگر میں یاسمین کے اشعار دُہرائے چلے جانے سے شاید اس مجموعہ ء کلام کے قارئین کا حق چھین رہا ہوں ورنہ اس نوع کے بے شمار اشعار “حصارِ بے درودیوار” میں موجود ہیں۔ ویسے ان چند اشعار سے بھی یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ یاسمین ایک با اسلوب شاعر ہے اور اس کا یہ اسلوب اپنے دور کے ہم سِن شعراء کے تناظر میں صد فیصدمنفرد ہے۔ پھر اس کی شاعری میں مسائلِ ذات و کائنات کے بارے میں فکر و تامل کی جو رَو مسلسل رواں رہتی ہے، اس نے یاسمین کی اس انفرادیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
یاسمین حمید نے نظمیں بھی کہی ہیں اور اس مجموعے کے آخر میں اس کی اکیس نظمیں شامل ہیں: “عقدہ” ، “کیوں” ، “کشف” ، “صرف” اور اسی طرح کی دوسری نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے اگرچہ …….. خود یاسمین کے الفاظ کے مطابق………. اس نے “خود کو بطور شاعر قدرے دیر سے دریافت کیا” ……….. مگر یہ تاخیر ان معنوں میں اس کے فن کے لیے مفید ثابت ہوئی کہ جب اس نے شعر کہنا شروع کیا تو اس کے مشاہدات میں گہرائی اور خیالات میں پختگی آچکی تھی۔ یاسمین کی غزلوں کے علاوہ اس کی نظمیں بھی اس حقیقت کی شاہد ہیں ………. اگرچہ وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعر ہے……….. اور غزل بھی جدید تر………… اور ساتھ ہی بھر پور اور گمبھیر!………… وہ غزل جس میں دھوپ’ تناور پیڑوں کے سائے سے ڈرتی ہے اور جلتے ہوئے کھیتوں کی مٹی سے نئی فصل اگانے کے عزائم پرورش پاتے ہیں اور مہکاروں میں رنگ جھلکتے ہیں اور رنگوں سے خوشبو آتی ہے